نئی دہلی، 22 فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ نے پلوامہ میں 14 فروری کو ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد کشمیریوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات کے پیش نظر جمعہ کو متعلقہ ریاستوں سے جواب طلب کرنے کے ساتھ ساتھ ان چیف سکریٹریوں اورپولیس جنرل کوفوری طورپرضروری کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔
چیف جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس سنجیو کھنہ کی بنچ نے ایک پٹیشن پر سماعت کے دوران مہاراشٹر، پنجاب، اتر پردیش، بہار، جموں کشمیر، ہریانہ، میگھالیہ، مغربی بنگال، چھتیس گڑھ اور اتراکھنڈ ریاستوں کے چیف سکریٹریوں اور پولیس سربراہ کے ساتھ ہی دہلی کے پولیس کمشنر کو کشمیری طالب علموں سمیت کشمیریوں کو دھمکی دینے، ان سے مار پیٹ کرنے اور ان کا سماجی بائیکاٹ کرنے کے واقعات کے روک تھام کیلئے کارروائی کی ہدایت دی۔بنچ نے بھیڑ کی طرف سے تشدد کے واقعات کے تناظر میں نوڈل حکام کے طور پر مقرر شدہ پولیس افسران کو ہدایت دی کہ وہ کشمیریوں پر حملے کے واقعات سے نمٹنے کے لئے ذمہ دار ہوں گے۔بنچ نے مرکزی داخلہ سکریٹری کو اس کا وسیع تشہیر کرنے کی ہدایت دی تاکہ کشمیری لوگ اس طرح کا واقعہ ہونے کی صورت میں نوڈل افسر سے رابطہ کر سکیں۔
بنچ نے کہا کہ ریاستوں کے چیف سکریٹریوں، پولیس انسپکٹرجنرل اور دہلی کے پولیس جنرل کو کشمیری عوام اور دیگر اقلیتوں کو دھمکی دینے، ان سے مار پیٹ کرنے اور ان کا سماجی بائیکاٹ کرنے جیسے واقعات کو روکنے کے لیے فوری کارروائی کی ہدایت دی جاتی ہے۔بنچ ایڈووکیٹ طارق ادیب کی عرضی پر سماعت کر رہی تھی جس میں پلوامہ میں 14 فروری کو دہشت گردانہ حملے میں سی آر پی ایف کے 40 جوان مارے جانے کے واقعہ کے بعد کشمیری عوام اور دیگر اقلیتوں کے خلاف مبینہ طور پر ہو رہی ہے اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے مرکز اور ریاستوں کو ہدایات دینے کی درخواست کی گئی تھی۔درخواست گزار کی جانب سے سینئر وکیل کولن گونسالوج نے دعوی کیا کہ یہ عرضی دائر کرنے کے بعد مختلف ریاستوں میں اس طرح کے حملوں کی دس سے زائد واقعات ہو چکے ہیں اور اس وجہ ان پر مؤثر طریقے سے روکنے پانے کے لیے فوری طور پر ہدایات دینے کی ضرورت ہے۔مرکز کی جانب سے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کہا کہ وزارت داخلہ نے 17 فروری کو ہی ریاستوں اورمرکز کو اس سلسلے میں ضروری مشاورت جاری کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مرکز نے تمام ریاستوں اور مرکز کو مشورہ جاری کیا ہے لیکن ہم ریاستوں کو ایسا ہدایات نہیں دے سکتے کہ ایسے واقعات کی صورت میں کس طرح کی کارروائی کی جانی چاہئے کیونکہ قانون ریاست کا موضوع ہے۔بنچ نے ان دلیلوں کا نوٹس لیتے ہوئے اپنے پہلے کے فیصلے کا ذکر کیا جس نے ریاستوں اورمرکز کو ہر ضلع میں ہجومی تشدد کے معاملات سے نمٹنے کے لیے سینئر پولیس افسر کو مقرر کرنے کو کہا تھا۔بنچ نے کہا کہ حال ہی میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے واقعہ کے پیش نظر یہ پولیس افسر کشمیریوں اور دیگر اقلیتوں سے منسلک ایسے واقعات کے مقدمات کو دیکھیں گے۔بنچ اس معاملے میں اب بدھ کو مزید غور کرے گی۔پلوامہ دہشت گردانہ حملے کے بعد کشمیریوں پر ہوئے حملے کے واقعات کی روشنی میں دائر درخواست میں مرکز اور دوسرے حکام کو نفرت پھیلانے والے تقریر کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے اور ہر ریاست میں ایک نوڈل افسر مقرر کرنے کی ہدایت دینے کی درخواست کی گئی ہے۔عرضی میں فورا ملک بھر ہیلپ لائن نمبر شروع کرنے کے ساتھ ساتھ ایک ویب سائٹ پر سیاسی اعتبار سے حساس اضلاع میں مقرر نوڈل حکام کے رابطہ کی تفصیلات فراہم کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔